از: تنویر قیصر شاہد
ایران کے ساتھ کسی باعزت معاہدے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ خود امریکی صدر کی متلون مزاجی سمجھی جا رہی ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کا طرز سیاست ہمیشہ سے غیر متوقع اور الجھا دینے والا رہا ہے۔ وہ ایک دن ایران سے مذاکرات کی بات کرتے ہیں اور اگلے دن پابندیوں کا اعلان کر دیتے ہیں۔ اس متلون مزاجی نے دنیا کے لیے مشکلات پیدا کی ہیں اور مشرق وسطیٰ میں عدم استحکام کو بڑھاوا ملا ہے۔ لبنان بحران، فلسطین مسئلہ اور ایران سے تعلقات — یہ تمام معاملات امریکی خارجہ پالیسی کی بے یقینی کی وجہ سے مزید پیچیدہ ہو گئے ہیں۔ پاکستان اور اس خطے کے دیگر ممالک کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی خارجہ پالیسی کو خودمختاری کی بنیاد پر استوار کریں اور کسی بھی بیرونی دباؤ میں نہ آئیں۔ امریکی صدر کی متکبرانہ پالیسیوں کے باوجود عالمی سطح پر توازن اور مکالمے کی ضرورت ہمیشہ رہے گی۔




