لاہور پولیس کا جعل سازوں کے ساتھ گٹھ جوڑ ایس پی سٹی تو ابھی قوانین سیکھ رہے ہیں! ڈی آئی جی فیصل کامران نوٹس لیں
کونسی دفعات لگتی ہیں اب یہ سب بھی صحافی اور وکیل سکھاتے رہیں
تحریر: عمر افتخار
ایس پی سکیورٹی کو ڈی آئی جی فیصل کامران سے کچھ سیکھنا چاہیے
موصوف چھٹیاں منا کر واپس پہنچے ہیں کئی دن گزرنے کے باوجود ایف آئی آر نہیں دی گئی
قوانین کی پاسداری اداروں نے کروانی ہے جب وہی ایکشن نہیں لیں گے تو کیا ہوگا
سرکاری کتابیں اور پرائیوٹ کتابیں دو نمبر طریقے سے چھاپی جا رہی ہیں اور پولیس سکون سے بیٹھی ہے
ایس ایچ او شفیق آباد سہیل گوندل ایف آئی آر کرنے (پرچہ دینے) میں ٹال مٹول کرتے رہے
جعلی کتاب چھاپنے والے پرنٹنگ پریس کے مالکان اور دفتری خانوں کے مالکان کے خلاف پنجاب پولیس کا کریک ڈاؤن صرف دکھاوا نکلا



حکومتِ پاکستان سے رجسٹرڈ پبلشرز کی نشاہدہی پر پولیس نے شفیق آباد کے علاقے کھوکھر ٹاؤن، مالی پورہ گلی نمبر 1 میں واقع ایک چھاپہ خانے اور دفتری خانہ پر چھاپا مارا۔۔
پولیس نے وہاں سے سرکاری اور غیر سرکاری اداروں کی جعلی کتابوں* کی بڑی تعداد برآمد کی، چھاپے کے وقت میڈیا اور علاقہ مکین بھی موجود تھے۔۔
پولیس نے موقع سے *3 افراد کو گرفتار* بھی کر لیا۔ ملزمان میں شامل چھاپہ خانے کا مالک اویس موقع سے فرار ہو گیا۔ *ماجد* – اویس کا سالا ہے اور دوسرا مالک ہے موقع سے گرفتار کر لیا گیا ہے، جنہیں بعد میں گھر بھیج دیا گیا۔۔
تھانے کا عملہ اور اہلکار مستند سائل پبلشرز کو جعل سازوں سے میل ملاپ اور مصالحت کروانے پر زور دیتے رہے
مستند پبلشرز کی درخواست دینے کے باوجود ایس ایچ او جعل سازوں کے مؤقف کی تائید کرتے رہے اور جعل سازوں پر پرچہ کاٹنے میں تذبذب کا شکار نظر آئے، مبینہ طور پر متعلقہ تھانے کی پولیس جعل سازوں سے رشوت لینے کی مرتکب ہوئی ہے۔
جعل سازوں، جعلی کتاب فروشوں کا قلع قمع کرنے والے ہی جعل سازوں اور عوام کو دھوکہ دینے والے عناصر کا ساتھ دینے لگے


