Saturday, December 10, 2022
HomeInternational newsکباب جن کے لئے گاہک کو 30 سال انتظار کرنا پڑے گا

کباب جن کے لئے گاہک کو 30 سال انتظار کرنا پڑے گا

جاپان کے شہر تاکاساگو میں آساہیا نامی قصائی 1926 سے گوشت کی مصنوعات فروخت کر رہا ہے اورگائے کے

گوشت کے ’کوبے کباب اس کی دکان کے سب سے زیادہ فروخت ہونے والی مصنوعات میں سے ایک ہے۔سی این این

کے مطابق مقامی اگائے گئے آلو سے بنے کباب اور بیف کوبے کباب کے لئے گاہکوں کے انتظار کا دورانیہ 30 سال سے

زیادہ بڑھ گیا ہے ایک خاتون نے ٹوئٹر پر بتایا کہ 8 ستمبر 2013 کو انہوں نے کبابوں کا آرڈر دیا تھا جب انہیں

ساڑھے سات سال کا نتظار کرنے کو بولا گیا تھا لیکن اپریل میں خاتون نے ٹویٹ کی انہیں ۹ سال بعد یہ کبا ب ملے

جس کی وجہ یہ بتائی گئی کہ کباب میں استعمال ہونے والے آلو کی ایک فصل خراب ہو گئی جس کی وجہ سے یہ

دورانیہ طویل ہو گیا ۔ انہوں نے ٹویٹ کی: ’وہ کباب، جن کا میں نو سال سے انتظار کر رہی ہوں، آ گئے ہیں۔‘

آساہیا نے جب پہلی بار یہ خاص کباب بنائے تو ایک کباب کی قیمت صرف 1.80 امریکی ڈالر تھی جبکہ ایک پیس

میں استعمال ہونے والے گائے کے گوشت کی قیمت تقریبا 2.70 امریکی بنتی تھی۔ اب ان کبابوں کی قیمت زیادہ

ہے، لیکن یہ اب بھی قابل خرید ہیں۔اب ان کبابوں کے ڈبے، جس میں پانچ پیس ہوتے ہیں، کی قیمت 18.40

امریکی ڈالر ہے۔

قصائی کی ویب سائٹ پر گاہکوں کو متنبہ کیا گیا ہے کہ اگر وہ آج کبابوں کا آرڈر دیتے ہیں تو ہوسکتا ہے انہیں

32 سال تک انتظار کرنا پڑے۔ ان کا کہنا کہ دکان نے 2016 میں کباب کے آرڈر لینا بند کر دیا تھا کیونکہ انتظار کی

فہرست 14 سال سے زیادہ ہو گئی تھی، لیکن انہیں بہت ساری کالیں موصول ہوئیں جن میں کہا گیا کہ ان کی

فروخت جاری رکھی جائے۔ گاہکوں کو کباب موصول ہونے سے ایک ہفتہ قبل ایک خط کے ذریعے ڈیلیوری کی اطلاع دی

جاتی ہے، جس میں خریداروں کے لیے انتظار کے حالیہ وقت کا بھی بتایا جاتا ہے

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -

Most Popular