Saturday, November 26, 2022
HomeNational newsکیا اس ملک میں مارشل لا لگا ہوا ہے؟ کسی جج کو...

کیا اس ملک میں مارشل لا لگا ہوا ہے؟ کسی جج کو دھمکایا نہیں جا سکتا! اٹارنی جنرل کو بھی نوٹس جاری! چیف جسٹس اطہر من اللہ محسن بیگ گھر چھاپہ ایف آئی اے کا اختیارات سے تجاوز

اسلام آباد ہائی کورٹ نے محسن بیگ کے گھر ایف آئی اے کے چھاپے کو اختیارات سے تجاوز قرار دیتے ہوئے ایف آئی اے کے ڈائریکٹر سائبر کرائم ونگ کو شوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ بیان حلفی جمع کروائیں کہ کیوں نا ان کے خلاف اختیارات کے غلط استعمال پر کارروائی نا کی جائے؟ عدالت نے اٹارنی جنرل کو بھی نوٹس جاری کرتے ہوئے 24 فروری کو پیش ہو کر ایف آئی اے ڈائریکٹر کے دفاع کی ہدایت کی ہے۔ چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیے کیا اس ملک میں مارشل لا لگا ہوا ہے؟ اٹارنی جنرل مطمئن کریں کہ پیکا ایکٹ کے سیکشن 21 ڈی کو ہی کیوں نا کالعدم کر دیا جائے۔
چیف جسٹس اطہر من اللہ نے محسن بیگ کی اہلیہ کی جرنلسٹ ڈیفنس کمیٹی کے ذریعے دائر درخواست پر سماعت کے دوران ریمارکس دیے ایف آئی اے پبلک آفس ہولڈرز کے لیے مسلسل اختیارات کا غلط استعمال کر رہی ہے جس پر تشویش ہے۔ کسی جمہوری ملک میں کسی ایجنسی یا ریاست کا ایسا کردار قابل برداشت نہیں۔ کریمنل ہتک عزت پرائیویٹ رائٹ ہے، پبلک رائٹ نہیں۔ ایف آئی اے کو روگ ایجنسی نہیں بننے دیں گے، آپ کا کام لوگوں کی خدمت کرنا ہے۔ ہر کیس میں ایف آئی اے اپنے اختیارات سے تجاوز کر رہا ہے۔ ڈائریکٹر ایف آئی اے نے عدالتی استفسار پر بتایا کہ پورے پاکستان میں 14 ہزار شکایات زیر التوا ہیں۔ جس پر چیف جسٹس نے کہا کیا آپ نے تمام شکایات پر گرفتاریاں کیں؟ وفاقی وزیر نے لاہور میں شکائت درج کرائی۔ کیا وہ وہاں وزٹ پر گئے تھے؟ ایف آئی اے نے شکائت ملنے پر کوئی نوٹس جاری کیوں نہیں کیا؟ آپ کے قانون میں ہے کہ آپ نے پہلے انکوائری کرنی ہے۔ کیا انکوائری کے بغیر چھاپہ اس لیے مارا کہ شکایت وفاقی وزیر کی تھی؟ چیف جسٹس نے کہا ٹاک شو ٹیلی ویژن پر ہوا تو پھر پیکا ایکٹ کا اطلاق نہیں ہوتا۔ جس پر ڈائریکٹر ایف آئی اے نے کہا جب وہ ٹاک شو فیس بک ، ٹوئٹر اور سوشل میڈیا پر وائرل ہوا تو شکائت پر کارروائی کی۔ چیف جسٹس نے کہا آپ نے کیا انکوائری کی؟ کیا ملزم نے وہ کلپ سوشل میڈیا پر وائرل کیا؟اس پروگرام میں کتنے لوگ تھے؟ کیا سب نے وہی بات کی تو باقی تینوں کو گرفتار کیوں نہیں کیا گیا؟ ڈائریکٹر سائبر کرائم ونگ نے مراد سعید سے متعلق  محسن بیگ کا جملہ پڑھ کر سنایا اور کہا کہ اس جملے میں کتاب کا حوالہ توہین آمیز ہے۔ یہ قانون پارلیمنٹ نے پاس کیا ہے، اس میں میرا کیا قصور ہے؟ ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے کہا انہوں نے کتاب نہیں پڑھی لیکن کتاب میں کیا لکھا ہے سب جانتے ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا پھر آپ مفروضے پر بات کر رہے ہیں۔کسی کی ساکھ اختیارات کے غلط استعمال سے نہیں بچتی۔ پبلک آفس ہولڈرز پر لوگوں کا اعتماد ہی ان کی اصل ساکھ ہے۔ یہ عدالت اختیار کے غلط استعمال کی اجازت نہیں دے گی۔ یہ عام شکائت ہوتی تب بھی گرفتاری نہیں بنتی تھی، یہ پبلک آفس ہولڈر کی شکایت ہے، آپ کیا میسج دے رہے ہیں؟ یہ ایک دھمکی ہے کہ اظہار رائے کی کوئی آزادی نہیں، عدالت یہ برداشت نہیں کرے گی۔ ڈائریکٹر ایف آئی اے نے کہا ہم بھی آپ کے بچے ہیں، ایف آئی اے اہلکار کو مارا پیٹا گیا۔ چیف جسٹس نے کہا نہ آپ میرے بچے ہیں، نہ میں آپ کا باپ ہوں۔ چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا صحافیوں کے لیے غیر محفوظ ممالک میں پاکستان کا آٹھواں نمبر ہے۔ یہ اسی وجہ سے ہے کہ اختیارات کا غلط استعمال کیا جا رہا ہے۔ کیا آپ اس معاشرے کو پتھر کے زمانے میں لے جانا چاہتے ہیں؟ملزم نے چھاپے کے وقت جو کیا وہ الگ معاملہ ہے جو مجاز عدالت دیکھے گی۔ سردار لطیف کھوسہ ایڈووکیٹ نے کہا وفاقی وزیر کی شکائت پر یہ کارروائی ہوئی تو وزیراعظم نے ایک میٹنگ بلائی۔ ایڈووکیٹ جنرل نے خود کہا کہ جج کے خلاف ریفرنس لا رہے ہیں جس پر چیف جسٹس نے کہا کسی جج کو دھمکایا نہیں جا سکتا۔ عدالت نے محسن بیگ کے خلاف لطیف کھوسہ ایڈووکیٹ کے ذریعے دائر مقدمہ اخراج کی درخواست نمٹا دی…

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -

Most Popular