Sunday, December 4, 2022
HomeNational newsعدم اعتماد کا اقدام: اگلے 48 گھنٹے اہم

عدم اعتماد کا اقدام: اگلے 48 گھنٹے اہم

وزیر اعظم عمران خان نے تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ سے ایک روز قبل پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر یا ڈی چوک اسلام آباد میں اندازاً دس لاکھ لوگوں کو لانے کا فیصلہ کرنے کی دو وجوہات ہو سکتی ہیں۔ پہلا یہ کہ اپنی ہی پارٹی کے ’مخالفین‘ پر دباؤ ڈالیں اور دوسرا، اگر ان کے خلاف ووٹ ڈالا گیا تو وہ اسی دن دوبارہ کنٹینر پر جائیں گے۔

اس طرح اس بات کا پورا امکان ہے کہ ’’ووٹ‘‘ کے نتائج آنے تک بھیڑ وہیں رہے گی۔ اگر وہ کامیاب ہو گئے تو اسے جشن میں بدل دیں گے اور شکست کی صورت میں اسے دوبارہ احتجاجی دھرنے میں بدل دیں گے۔ وہ ہتھیار ڈالنے کے موڈ میں نہیں ہے اور اس نے پہلے ہی پیچھے سے پیچھے عوامی میٹنگیں کرکے، اپوزیشن کو سختی سے نشانہ بنا کر ٹیمپو بنایا ہے، اور ساتھ ہی ‘غیر جانبداری’ پر بھی سوالیہ نشان لگا دیا ہے، جس کے بارے میں ان کے ناقدین کا خیال ہے کہ یہ ایک بہت بڑا ‘یو ٹرن’ ہے۔

دونوں طرف سے اعصاب کی لڑائی کے لیے تناؤ بڑھ رہا ہے، کچھ آزاد سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ چیزیں قابو سے باہر ہو سکتی ہیں جو سیاسی اور معاشی عدم استحکام کا باعث بن سکتی ہیں۔ کچھ وفاقی وزراء جنہوں نے خود گزشتہ چند ہفتوں میں اپنے بیانات کے ذریعے کشیدگی کو بڑھایا تھا، اب دونوں فریقین کو ٹھنڈا ہونے کا کہہ رہے ہیں۔ لیکن، وزیر اعظم بظاہر ایسا کرنے کے موڈ میں نہیں ہیں۔ اپوزیشن نے بھی ان کے بیانات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں ’آئی واش‘ قرار دیا ہے۔

وزیراعظم عمران خان اب بھی پراعتماد ہیں کہ وہ اپنے حریفوں کو اپنے ’ان سوئنگ یارکر‘ سے کلین بولڈ کر دیں گے۔ لیکن، اگر ‘امپائر’ کہے کہ یہ ‘نو بال’ ہے۔ یہ کرکٹر سے سیاست دان بننے والے کی قسمت پر مہر ثبت کر سکتا ہے، جو اپنی حکومت کے ساڑھے تین سالوں میں کبھی ایسی صورتحال سے دوچار نہیں ہوئے جہاں ان کی اپنی رینک اور فائل ایک ایسے وقت میں مکمل بے ترتیبی کا شکار ہے جب اسے ان کی سب سے زیادہ ضرورت تھی۔ بہت سے لوگوں کو یقین ہے کہ تحریک عدم اعتماد سے پہلے ہم نے پیش کیا تھا کہ معاملات طے پا جائیں گے یا دونوں طرف سے کلیئر ہو جائیں گے۔

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -

Most Popular