Saturday, November 26, 2022
HomeNational newsلاہور ہائیکورٹ کا زہر سماعت مقدمات کے ملزمان کو بیرون ملک جانے...

لاہور ہائیکورٹ کا زہر سماعت مقدمات کے ملزمان کو بیرون ملک جانے سے روکنے سے متعلق بڑا فیصلہ

کیس کا فیصلہ نہ ہونے پر ملزم کو بیرون ملک سفر کرنے کے حق سے محروم نہیں کیا جاسکتا جسٹس طارق سلیم شیخ نے قانونی نقطہ طے کردیا

جسٹس طارق سلیم شیخ نے پاسپورٹ اینڈ ویزہ مینول 2006 کا پیرا 51 کالعدم قرار دے دیا(بلیک لسٹ کا قانو کلعدم)

عدالت نے دونوں شہریوں کو بلیک لسٹ کرنے کے اقدام کو غیر قانونی قرار دے دیا

عدالت نے ڈی جی ایف آئی اے کو تمام امیگریشن پوائنٹس پر ہدایات دینے کا حکم دیا

جسٹس طارق سلیم شیخ نے ایک ہی نوعیت کی دو درخواستوں پر 21صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کردیا

عدالتی فیصلے میں اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کی 2004 میں وطن واپسی سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے کا حوالہ بھی دیا گیا ہے

ریاستی آئین مکمل بنیادی حقوق کی گارنٹی نہیں دیتا بلکہ قانون کی عمل داری سے مشروط کرتا ہے فیصلہ

ایسے بنیادی حقوق کا کوئی مقصد نہیں ہے جس سے ریاست خود خطرے میں آجائے فیصلہ

اگر ریاست خطرے میں تو اس سے جڑی چیزیں بھی خطرے میں ہیں ،فیصلہ

سفر کا بنیادی حق گلوبل طور پر جانا جاتا ہے جو کہ ایک بنیادی انسانی حقوق ہے،فیصلہ

یونیورسل ڈکلیئر یشن آف ہیومن رائٹ1948 کے آرٹیکل 13 کے تحت ہر کسی کو کسی بھی ریاست میں آنے جانے کی اجازت ہے فیصلہ

آئین کا آرٹیکل 15 بھی فریڈم آف موومنٹ کی بات کرتا ہے فیصلہ

ارٹیکل15 کے تحت ہر شہری کو قوانین میں لگائی پابندی کے اندار گھومنے کی آزادی ہے فیصلہ

آرٹیکل 15واضح کرتا ہے کہ لگائی گئی پابندیاں نہ صرف معقول ہوں بلکہ عوامی مفاد کے لیے بھی ہوں فیصلہ

پاسپورٹ ایکٹ کے سیکشن 8 کے تحت پاسپورٹ وفاقی حکومت کی پراپرٹی ہے جو شہری سے واپس لینے یا کینسل کرنے کا حق رکھتی ہے فیصلہ

سب سیکشن 2 کے تحت ایسا کرنے سے پہلے وفاقی حکومت شہری کو حکم جاری کرنے سے دو ہفتے پہلے نوٹس جاری کرنے کی پابند ہے ،فیصلہ

سب سیکشن 3اگر وفاقی حکومت کے پاس واضح شواہد موجود ہوں کہ متعلقہ شحص کسی غیر قانونی سرگرمی میں ملوث ہے جو ملک کے خلاف ہے تو شوکاز نوٹس بھی ضروری نہیں ،فیصلہ

موجودہ کیسز میں وفاقی حکومت نے نہ ہی درخواستگزاروں سے پاسپورٹ واپس مانگا اور نا ہی کینسل کیا ،فیصلہ

شان الہی اور سید انور شاہ نے بلیک لسٹ ہونے کے خلاف الگ الگ درخواستیں دائر کیں

ایف آئی اے نے شان الہی اور اسکے بھائی عرفان الٰہی پر شہری کو بیرون ملک بھجوانے کا فراڈ کرنے پر مقدمہ درج کیا فیصلہ

ایف آئی اے نے بعد ازاں دونوں ملزمان کو مقدمے سے ڈسچارج کردیا فیصلہ

دونوں ملزمان کے خلاف مدعی نے سپشل سینٹرل کورٹ میں استغاثہ دائر کیا فیصلہ

اس دوران ملزمان بیرون ملک جا چکے تھے فیصلہ

عدالت نے استغاثہ میں پیش نہ ہونے پر دونوں ملزمان کو اشتہاری قرار دیا تھا فیصلہ

ڈپٹی ڈائریکٹر ایف آئی اے نے پاسپورٹ اینڈ ویزہ مینول 2006 کے پیرا 51 کے تحت ملزمان کو بلیک لسٹ کردیا فیصلہ

عرفان الٰہی کچھ عرصہ بعد پاکستان آیا اور قانون کا سامنا کیا اور خود کو کلئیر کرایا فیصلہ

درخواست گزار شان الہی تاحال قانون سے فرار ہے اور دبئی میں موجود ہے فیصلہ

درخواستگزار کے پاسپورٹ کی معیاد 2020 میں ختم ہوئی اور بلیک لسٹ ہونے کے باعث ری نیو نہیں ہوسکا فیصلہ

دوسری درخواست میں انوار شاہ اور اسکی بیوی اوورسیز پاکستانی ہیں جو کہ سعودی عرب میں رہ رہے ہیں فیصلہ

کچھ عرصہ قبل درخواست گزار کی بیوی چھ ہفتوں کے وزٹ پر پاکستان آئی فیصلہ

واپسی پر بیوی کو ائیرپورٹ پر روک لیا گیا اور بتایا کہ اسکا شوہر ایک مقدمے میں اشتہاری اور بلیک لسٹ ہے فیصلہ

ایف آئی اے نے بیوی کو گرفتار کرلیا تاہم عدالت نے ضمانت دے دی فیصلہ

کچھ عرصے بعد درخواست گزار بھی پاکستان آیا اور مقدمے کا سامنا کیا اور عدالت سے ضمانت لی فیصلہ

درخواست گزار نے بلیک لسٹ ہونے کے خلاف درخواست کی فیصلہ

درخواست گزاروں کو پاسپورٹ اینڈ ویزہ مینول 2006 کے پیرا 51 کے تحت کارروائی کی گئی ،فیصلہ

پاسپورٹ ایکٹ بلیک لسٹ کرنے کی کوئی شو موجود نہیں ،فیصلہ

سیکشن ،8 وفاقی حکومت کو صرف پاسپورٹ کینسل ،یا ضبط کرنے کا اختیار دیتا ہے،فیصلہ

بلیک لسٹ کرنا ایک بالکل الگ معاملہ ہے اور اسکا مفہوم بھی الگ ہے،فیصلہ

وزارت داخلہ نے مینول پاسپورٹ اور ویزہ پروسیجر ایشو کیا ،فیصلہ

سیکشن 13 وفاقی حکومت کو آفیشنل گزٹ کے زریعے رولز بنانے کا اختیار دیتا ہے فیصلہ

یہ طے شدہ حکومت کو محکموں اور دفاتر کو بہتر انداز میں چلانے کے لیے نوٹیفکیشن جاری کرنے کا اختیار ہے فیصلہ

یہ بھی طے شدہ ہے ایسے نوٹیفکیشن اور ہدایت آئین سے متصادم نہیں ہونے چاہیے ،فیصلہ

پاسپورٹ رولز 1974 بھی پاسپورٹ اینڈ ویزہ مینول 2006 کے پیرا 51 کے حوالے سے خاموش ہے ،فیصلہ

پیرا 51غیر قانونی قرار دیا جاتا ہے ،فیصلہ

ڈپٹی اٹارنی جنرل نے بیان دیا کہ پیرا 51 کو کالعدم قرار دینے کے اثرات خوفناک ہونگے ،فیصلہ

عدالتوں نے کیسز کا فیصلہ قانون کے مطابق کرنا ہوتا ہے فیصلہ

ایف آئی اے نے بیان دیا کہ انہوں نے سپشل سینٹرل کورٹ کے کہنے پر بلیک لسٹ کیا فیصلہ

سینٹرل کورٹ نے واضح کیاکہ ایسا کوئی حکم جاری نہں کیا گیا ،فیصلہ

اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ عوامی مفاد کے لیے انصاف کرنا ضروری ہے ،فیصلہ

ہر کیس کے حقائق الگ ہوتے ہیں وفاقی حکومت ایسے ہی پاسپورٹ کینسل ،ضبط اور بلیک لسٹ نہیں کرسکتی ،فیصلہ

انتہائی اقدام سے پہلے ہر کیس کا مکمل جائزہ لینا چاہیے ،فیصلہ

درخواست گزار شاہ الہی کو بلیک لسٹ کرنے کوئی جواز نہیں تھا،فیصلہ

درخواست گزار انور شاہ کے کیس کا تاحال فیصلہ نہیں ہوا ،فیصلہ

یہ گراؤنڈ کسی کو بیرون ملک سفر کرنے سے روک نہیں سکتی ،فیصلہ

دونوں درخواستیں منظور کرتے ہوئے بلیک لسٹ کرنے کااقدام غیر قانونی قرار دیا جاتا ہے ،فیصلہ

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -

Most Popular