Thursday, December 1, 2022
HomeNational newsکمپی ٹیشن بڑھانے کے لیے اچھا ہے زیادہ چینلز آئیں؟ چیف جسٹس...

کمپی ٹیشن بڑھانے کے لیے اچھا ہے زیادہ چینلز آئیں؟ چیف جسٹس اطہر من اللہ

پی بی اے / پیمرا کیس
پی بی اے کی پیمرا کو اینالاگ سسٹم کی استعداد سے زیادہ ٹی وی چینلز کو لائسنس دینے سے روکنے کی درخواست پر سماعت
اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے پاکستان براڈ کاسٹرز ایسوسی ایشن کی درخواست پر سماعت کی
پی بی اے کے وکیل فیصل صدیقی ایڈووکیٹ عدالت میں پیش
پیمرا کے وکیل اور ڈی جی لائسنسنگ بھی عدالت میں پیش
پیمرا مطمئن کرے کہ اس کے پاس زیادہ چینلز دکھانے کی گنجائش موجود ہے، چیف جسٹس
پیمرا ریگولیٹر ہے اسے صرف رقم جمع کرنے پر توجہ نہیں دینی چاہئے، چیف جسٹس
عدالت یہ معاملہ دوبارہ پیمرا کو بھجوا دے، وکیل پیمرا
پیمرا انڈی پینڈنٹ کنسلٹنٹ سے سٹڈی کرا لے کہ کتنے چینلز دکھانے کی کتنی گنجائش ہے؟ فیصل صدیقی وکیل پی بی اے
جب تک ڈی ٹی ایچ سسٹم نہیں آتا اس وقت تک زیادہ چینلز کو لائسنس دینے سے متاثر ہوں گے، فیصل صدیقی
ڈی ٹی ایچ ڈسٹری بیوشن کا نظام ہے، ڈائریکٹ ٹو ہوم سسٹم لانے پر کوئی اعتراض نہیں، وکیل پی بی اے
ابھی اس وقت دستیاب ڈسٹری بیوشن سسٹم اینالاگ ہے، وکیل پی بی اے
پیمرا کا اپنا لیٹر ہے جس میں یہ مان رہے ہیں کہ ابھی فی الحال اتنے چینلز دکھانے کی گنجائش نہیں، وکیل پی بی اے
اس طرح تو کیبل آپریٹرز پیسے لے کر جو چینلز چاہیں گے دکھائیں گے، وکیل پی بی اے
اگر پاکستان میں دو سو چینلز دکھانے کی گنجائش ہوتی تو میری درخواست جرمانے کے ساتھ خارج کر دیتے، وکیل پی بی اے
کمپی ٹیشن بڑھانے کے لیے اچھا نہیں کہ زیادہ چینلز آئیں؟ چیف جسٹس اطہر من اللہ
ہم تو چاہتے ہیں کہ زیادہ چینلز آئیں اور ہماری ایسوسی ایشن کے ممبر بنیں، وکیل پی بی اے
ہم نئے اور پرانے تمام ممبرز کے حقوق کا تحفظ کریں گے، وکیل پی بی اے
پیمرا کے افسر کو بلا لیں جو عدالت میں تحریری بیان دے کہ چینلز دکھانے کی گنجائش موجود ہے، چیف جسٹس
یہ تو سبسکرائبرز کی چوائس ہو گی کہ وہ زیادہ پیسے دے کر ڈیجیٹلائز سبسکرپشن لیں یا اینالاگ، وکیل پیمرا
بھارت میں ایک ہزار چینلز ہیں، وہ بھی تمام چینلز دکھانے کا سسٹم نہیں رکھتے، وکیل پیمرا
ہم کسی کنزیومر کو فورس نہیں کر سکتے کہ وہ لازمی ڈیجیٹلائز سبسکرپشن لے، آپشن ضرور دے سکتے ہیں، وکیل پیمرا
ڈی جی لائسنسنگ پیمرا کو متعلقہ دستاویزات کے ساتھ رپورٹ جمع کرانے کی ہدائت
رپورٹ میں بتائیں کہ دنیا بھر میں کیا پریکٹس ہے اور کیا مزید چینلز دکھانے کی گنجائش موجود ہے یا نہیں؟ عدالت
کیس کی مزید سماعت 13 مئی تک ملتوی کر دی گئی

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -

Most Popular