Thursday, December 1, 2022
HomeNational newsاپنے بھارتی دوستوں کیلئے پریشان ہوں، بھارت کس طرف جارہا ہے، تعلیم...

اپنے بھارتی دوستوں کیلئے پریشان ہوں، بھارت کس طرف جارہا ہے، تعلیم یافتہ بھارتی کیلئے وہاں پلنا بڑھنا باعث تشویش ہوگا ! پاکستان نےطالبان سے کہا تھا کہ اسامہ بن لادن کوامریکیوں کے حوالے کر دیں ہمارے ہاں تقریباً 2لاکھ 40ہزار افغانی آچکےہیں ملک مزید پناہ گزینوں کامتحمل نہیں، وزیراعظم عمران خان

اپنے تمام بھارتی دوستوں کیلئے پریشان ہوں، وزیراعظم پاکستان عمران خان، بھارت اس وقت کس طرف جارہا ہے،
ایک تعلیم یافتہ بھارتی کیلئے وہاں پلنا بڑھنا باعث تشویش ہوگا، وزیراعظم پاکستان عمران خان
پاکستان،افغانستان کےاردگردموجودہ تمام علاقائی ممالک کو ساتھ لیکرچلنا چاہتا ہے،وزیراعظم
پاکستان تنہا کوئی قدم اٹھاتا ہےتو اس کا ہم پر بہت زیادہ بین الاقوامی دباؤ آجائےگا، وزیراعظم
پاکستان معاشی طور پر اپنے پیروں پر کھڑا ہونےکی کوشش کررہاہے،وزیراعظم
جب حکومت سنبھالی توملک دیوالیہ تھا،ہمارےپاس واجبات اداکرنےکیلئےپیسےنہیں تھے، ہماری توجہ کامرکزملکی معیشت ہے،وزیراعظم عمران خان
ہم معیشت کواسی صورت اوپرلےجاسکتےہیں جب ہمارے دنیاکیساتھ اچھےتعلقات ہوں، ہم عالمی تنہائی نہیں چاہتے، وزیراعظم عمران خان
اگرہم تقریباً 4کروڑ افغانیوں کی فلاح وبہبودکےخواہاں ہیں توحکومت کوجلد یا بدیر تسلیم کرناہوگا،وزیراعظم
جب پہلےطالبان کی حکومت آئی توشمالی اتحاد کےساتھ تنازع چل رہا تھا،وزیراعظم
افغانستان میں اب کوئی تصادم نہیں،یہ 40سال بعد پہلا موقع ہے، افغانستان میں استحکام سےبین الاقوامی دہشتگردوں کے پنپنے کا امکان کم ہوجائےگا،وزیراعظم
آگےبڑھنےکاواحدراستہ طالبان حکومت کوتسلیم کرناہے،وزیراعظم
پاکستان اکیلا طالبان حکومت کوتسلیم نہیں کرسکتا،وزیراعظم
افغانستان کےمعاملےپرتمام علاقائی ممالک سے مشاورت کررہےہیں، افغانستان میں ایک جامع حکومت ہونی چاہیے،وزیراعظم، 2001میں پاکستان ان تین ممالک میں سےایک تھاجنہوں نےافغانستان کوتسلیم کررکھ اتھا، افغانستان کوتسلیم کرنےکےباوجود پاکستان نےطالبان سےکہا کہ اسامہ بن لادن کوامریکیوں کےحوالےکردیں،وزیراعظم
طالبان نےاسامہ بن لادن کوامریکا کے حوالے کرنے سے صاف انکارکردیا، وزیراعظم
پاکستان میں پہلےہی 30لاکھ سےزائدپناہ گزین موجودہیں،وزیراعظم
افغانستان میں حالات بگڑےتو انسانی بحران پیداہوجائےگا،وزیراعظم
ملک میں پناہ گزینوں کاایک سیلاب آئےگا،وزیراعظم
سقوط کابل کے بعدسے ہمارے ہاں تقریباً 2لاکھ40ہزارافغانی آچکےہیں،وزیراعظم
ملک مزیدپناہ گزینوں کامتحمل نہیں ہوسکتا،ہمارےپاس وسائل نہیں،وزیراعظم
سقبوط کابل سےقبل افغانستان سے3گروہ کاررائیاں کررہےتھے،وزیراعظم
پہلےنمبرپرٹی ٹی پی پاکستانی طالبان،دوسرابلوچ دہشتگردتھے اورتیسرےنمبرپرداعش تھی،وزیراعظم
افغان حکومت جتنی زیادہ مستحکم ہوگی دہشگردوں کووہاں سےکارروائیاں کرنےکےمواقع کم ملیں گے،وزیراعظم
پاکستان کےپاس افغانستان میں استحکام کی مضبوط ترین دلیل ممکنہ مہاجرین اوردہشتگردی ہے،وزیراعظم
افغانیوں پربھروسہ ہےوہ اپنی بات پرقائم رہتےہیں،وزیراعظم
طالبان اقتدارمیں آئےتوہرجگہ مکمل امن ہوگیا،وزیراعظم
ہمسایہ ممالک کامانناہےکہ افغانستان میں استحکام وسطی ایشیائی ممالک کیلئےانتہائی اہم ہے،وزیراعظم
پاکستان اوروسطیٰ ایشیائی ممالک کےنقطہ نظرسے پاکستان افغانستان کےراستے وسطی ایشیاسےجڑجاتاہے،وزیراعظم پاکستان عمران خان

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -

Most Popular