Sunday, December 4, 2022
HomeInternational newsامریکہ کی وہ ریاست جہاں سزائے موت کے قیدیوں کو آخری...

امریکہ کی وہ ریاست جہاں سزائے موت کے قیدیوں کو آخری کھانا نہیں کھلایا جاتا، حیران کن وجہ سامنے آگئی

امریکی ریاست ٹیکساس کی جیلوں میں سزائے موت کے قیدیوں کو ان کی خواہش کے مطابق آخری کھانا فراہم کرنے پر پابندی ہے جس کی وجہ بھی انتہائی حیران کن ہے۔

ڈیلی سٹار کے مطابق دنیا بھر میں سزائے موت پر عملدرآمد سے پہلے قیدیوں کو ان کی پسند کا آخری کھانا کھلایا جاتا ہے لیکن ریاست ٹیکساس میں ایسا نہیں ہے۔ یہاں سنہ 2011 کے بعد سے اب تک کسی قیدی کو اس کی زندگی کا آخری کھانا اس کی مرضی کے مطابق نہیں کھلایا گیا۔

اصل میں ہوا کچھ یوں تھا کہ 21 ستمبر 2011 کو لارنس رسل بروور نامی ایک قیدی نے اپنی سزائے موت سے ایک رات پہلے اپنی پسند کے کھانے کی لمبی چوڑی فہرست مہیا کی۔ اس میں سٹیک، چیز برگر، فجیتا، آملیٹ، پیزا، آئس کریم سمیت طرح طرح کی چیزیں شامل تھیں۔ جیل حکام نے اس کی یہ خواہش پوری کرتے ہوئے سارا کھانا مہیا کردیا لیکن جب کھانا قیدی کے سامنے رکھا گیا تو اس سے کوئی بھی چیز نہیں کھائی گئی۔ اس نے گارڈز سے کہا کہ وہ کچھ بھی نہیں کھا پا رہا۔

اس واقعے کے بعد ٹیکساس کے سینیٹر جوہن وٹمائر نے جیل ڈائریکٹر کو ایک خط لکھا اور سزائے موت کے قیدیوں کو یہ سہولت فراہم کرنے کو غیر ضروری قرار دیا۔ اس کے بعد سے اب تک ٹیکساس کی جیلوں میں قیدیوں کو ان کی زندگی کا آخری کھانا ان کی پسند کا نہیں بلکہ جیل کے مینیو کا کھلایا جاتا ہے۔

RELATED ARTICLES

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here

- Advertisment -

Most Popular